جانتا ہوں کافی دیر کے بعد اپنے بلوگ کو اپڈیٹ کر رہا ہوں- کچھ ایسے حالات گزرے میرے ساتھ کے بلوگ لکھنا ہے چھوڑ دیا- سنا ہے اللہ اپنے لوگوں سے ہی آزمائشیں لیتا ہے- شاید میں ہی اس قابل نہیں تھا کے پورا اترتا- میں نے اپنا آخری مراسلہ دیکھا جو اس وقت کا ہے جس مہینے میں، میں نے بہت کچھ کھویا- میری بیوی نے ایک مراسلہ لکھا تھا جس کو میں نے یہاں پر نہیں ڈالا- وہ مراسلہ ابھی بھی میرے ڈرافٹ میں پڑا ہے- سوچا تھا جب وقت ایگا تو ڈال دوں گا مگر اللہ کو شاید یہ منظور نہ تھا- میری بیوی نے ایک خوشخبری کے بارے میں لکھا تھا- یہ بات دسمبر کی ہے جب میں واپس سعودیہ آچکا تھا اور پتا چلا تھا کے ہم دونوں ماں اور باپ بنے والے ہیں-وہ بہت خوش تھی اور میں بھی- سب کچھ اچھا چل رہا تھا مگر اس کمبخت مہینے جولائی ٢٠١١ نے میری زندگی بدل کے رکھدی- میری بچی جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اللہ نے آٹھویں مہینہ میں ہم سے واپس لے لی- وہ دن اب بھی کبھی یاد آتا ہے تو دل بند سا ہو جاتا ہے- اتنے سالوں بعد ایک خوشی آئی تھی وہ بھی اللہ نے شاید ہمارے لئے نہیں لکھی تھی- خیر اللہ کی مرضی کے آگے کس کی چلتی ہے- یہاں سعودیہ میں کسی کو غم سے بھرا دل سمبھالنے کے لئے ایک دن بھی نہیں دیا جاتا- اگلے دن میرے باپ نے مجھے کام پر جانے کو کہا- میں سارا دل خاموش رہا- اس بات کا میرے صرف ایک دوست کو پتا تھا اور اسنے آگے ایک دوست کو بتایا تھا- خیر وہ دن بھی گزرنے لگے- مگر وہ تین دن میری بیوی اور مجھ پے پہاڑ کی طرح تھے- میری بیوی کو تین دن لگے ھسپتال سے فارخ ہونے میں- اللہ اس کو صحت دے- بچاری کو بہت درد رہا اور میں یہاں پریشان رہا- اللہ کو جو منظور، ہم نے مان لیا مگر ابھی بھی اس کی یاد آتی ہے- ہم نے بہت سے خواب دیکھے تھے اس کے لئے- اب پاکستان جانے کا وقت آ رہا ہے- عجیب سی بیچینی ہے- کیا سوچا تھا اور کیا ہوا- سوچا تھا کے اس بار میں اپنی بیوی اور بچی سے ملوں گا- مگر-----
جولائی ٢٠١١ پر میں لعنت بھجتا ہوں- اسی مہینے میں میری نوکری بھی ختم ہو گئی- ایک بچی کا غم پھر نوکری کی فکر- ان سب نے مجھے زیبتیس کا مریض بنا کے رکھدیا- اس بیماری کا مجھے اگست ٢٠١١ کے بعد پتا چلا- ابھی کنٹرول میں ہے، بروقت علاج شروع کردیا مگر میں نے اپنی ماں کو اسی بیماری سے مرتے دیکھا- ہاے ری قسمت- اس دن مجھے وہ بول یاد آگے-
زندگی کی تلاش میں، ہم موت کے کتنے پاس آ گئے-
اک خوشی کی تلاش میں تھے-
کتنے غم ہم کو تڑپا گئے-
زندگی پوری بدل گئی- ایک عرصے سے میں اپنی بیوی کو یہاں سعودیہ میں لانا چاہتا ہوں- وہ کام بھی نہیں ہوپا رہا- پتا نہیں اللہ کیا چاہتے ہیں؟ آج ایک ایسی جگہ کام کر رہا ہوں جہاں دو مہینے سے تنخواہ ہی نہیں ملی- کوشش میں ہوں کے مضبوط رہوں- دیکھتے ہیں کب ٹوٹتا ہوں- اللہ خیر رکھے آمین ثم آمین -
No comments:
Post a Comment
Please do not use foul language to comment. Found such comments will be deleted.